یہ دستار بندی نہیں، نظر بندی ہے
✒️محمد میکائیل احمد رضوی(پرساوی)
فرضی و رسمی دستار بندی کے المیے پر ایک تنقیدی نوٹ
دستار بندی برِّصغیر کے دینی تعلیمی اداروں میں صدیوں پرانی ایک باوقار روایت رہی ہے۔ یہ محض ظاہری رسم و رواج نہیں، بلکہ علم و دیانت، مسلسل محنت، علمی امانت سونپے جانے اور تکمیلِ اہلیت کا علامتی اظہار اور باضابطہ اعلان ہے۔مگر آج جب ہم بہت سی تقریباتِ دستار بندی کا جائزہ لیتے ہیں تو اس تلخ نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ دستار بندی نہیں رہی، بلکہ نظر بندی بن چکی ہے—
ایسی نظر بندی جو سچ دیکھنے، سوال اٹھانے اور معیار پر گفتگو کرنے کی صلاحیت سلب کر لیتی ہے۔
دوستو! یہ مضمون کسی حسد، عناد یا ادارہ دشمنی کے جذبے کے تحت نہیں لکھا جا رہا، بلکہ قرآنِ مجید، طلبۂ عظام اور اسی امت کی امانت کے احساس کے تحت تحریر کیا گیا ہے، جس کے امین ہونے کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔
بنیادی سوال :آج دل یہ سوال کرنے پر مجبور ہے کہ جو طلبہ ابھی منزل تک نہیں پہنچے، سبق اور سپارہ کے درمیان معلق ہیں، راہِ قرأت میں لڑکھڑا رہے ہیں—انہیں فارغ التحصیل کی قطار میں لاکھڑا کرناکیا واقعی قرآن کی خدمت اور دین و مسلک کی صحیح ترجمانی ہے؟یا پھر طلبہ کو استعمال کر کے اور قوم کو فریب دے کر محض ادارہ جاتی تشہیر؟
دنیا کے کسی بھی سنجیدہ تعلیمی نظام میں اعزاز، سند یا دستار ہمیشہ تکمیلِ نصاب کے بعد دی جاتی ہے۔ یہ اصول ہر جگہ یکساں لاگو ہے۔اس سے پہلے ایسا کرنا علمی بددیانتی، شرعی خیانت اور نصاب کی صریح پامالی ہے۔
مسئلہ کہاں ہے؟
افسوس کہ آج یہ روش زیادہ تر انہی مدارس میں پائی جا رہی ہے جہاں معیار کے بجائے اعداد و شمار کو ترجیح دی جا رہی ہے اتنے حفاظ، اتنے قرّاء، اتنے علماء، اتنے مفتی!
یہ ایک خطرناک صورتحال ہے:تعلیم اور معیار کسی بھی جماعت کی فکری ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ جب یہی کمزور ہو جائیں تو بظاہر مضبوط دکھائی دینے والا قلعہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہوتا ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ آج ہم اسی دہانے پر کھڑے ہیں۔
اصل پہچان:
کسی تعلیمی ادارے کی اصل پہچان اس کی عمارت، جلسے یا سالانہ تقاریب نہیں، بلکہ اس کا تعلیمی معیار ہوتا ہے۔ جو ادارہ معیار کو اپنا شعار بناتا ہے، اس کے فوائد وقتی نہیں بلکہ دیرپا اور ہمہ جہت ہوتے ہیں، اور عوام بھی ایسے اداروں کی مالی معاونت خوش دلی سے کرتے ہیں۔
یاد رکھیے!
معیاری تعلیم بوجھ نہیں، قیمتی سرمایہ ہے۔مدارس کی روح معیار ہے—مگر افسوس کہ یہی روح مضمحل ہوتی جا رہی ہے۔
فرضی دستار بندی کا فتنہ:
آج مدارسِ اہلِ سنت میں ایک ایسا بھدا اور بدذوق نظام پروان چڑھ چکا ہے جس نے فرد ہی نہیں، پوری جماعت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے—اور وہ ہے فرضی، رسمی اور نمائشی دستارِ حفظ و قرأت۔
یہ اس لیے نہیں ہو رہا کہ طلبہ واقعی تکمیلِ نصاب کے بعد سند و اعزاز کے مستحق ہو چکے ہیں—بلکہ اس لیے کہ کہیں عام و خاص امداد کنندگان منہ نہ موڑ لیں، اور ناکامی کا داغ ماتھے کا جھومر نہ بن جائے۔
عوامی خوشنودی کی ہوس میں جیسے تیسے پگڑی لپیٹ دی جاتی ہے، خواہ سر پر بال ہوں یا نہ ہوں۔سچ پوچھیں تو _یہ دستا فروش حوران بہشت شداد کی زلفیں سنوارنے میں مصروف ہیں۔انہیں احساس تک نہیں کہ یہ خیال عام ہوتا جارہا ہیکہ دستار اب تکمیلِ علم کی علامت نہیں رہی، بلکہ اسٹیج کی زینت، ویڈیو کیمرے کی خوراک اور چندہ باکس کی کنجی بن چکی ہے۔
چلئے! اصلاح احوالِ بد کیلئے ظہور امام مہدی کا انتظار کرلیتے ہیں:
اے کاش!! جماعت کے ارباب بصیرت اس پہلو پہ نھی نگاہ احتساب ڈال لیتے:
مالی پہلو: ایک تشویش ناک حقیقت:
بہار کے 38 اضلاع ہیں۔ اگر ہر ضلع میں اوسطاً 20 جلسۂ دستارِ حفظ مان لیے جائیں تو کل تعداد 760 بنتی ہے۔اگر محتاط اندازے کے مطابق فی جلسہ 3 لاکھ روپے خرچ ہوں تو مجموعی رقم تقریباً 22 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچتی ہے—جو کوئی معمولی رقم نہیں ہے۔ان جلسوں کے نتیجے میں تقریباً 4 سے 5 ہزار فارغین سامنے آتے ہیں، اگر معیار کی کسوٹی پر صرف 15 تا 20 فیصد ہی پورا اترتے ہوں (جو کہ تلخ مگر سچ ہے)
تو سوال یہ ہے کہ: باقی 80 فیصد _آدھے تیتر، آدھے بٹیر _حفاظ و قرّاء پر خرچ ہونے والے تقریباً 19 کروڑ کا ذمہ دار کون ہے؟جب عقل سلیم اشتہار، القاب، نمائش اور ہجوم کے پاس گروی رکھ دی جائے تو کروڑوں خرچ ہوجائیں نتیجہ خاطر خواہ بر آمد نہیں ہوتے۔
اصل المیہ:
یہ مسئلہ صرف ناخواندہ عوام کا نہیں، جو ظواہر سے مرعوب ہوکر حواس باختہ ہوجاتے ہیں
اصل المیہ تو صاحبانِ علم و خرد ہیں، اوراساتذہ منتظمین ہیں جو مسندوں پہ براجمان، فیصلوں کے امین اور معیار کے نگہبان کہلاتے ہیں
جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں، نہ جانے کن مصلحتوں کے اسیر ہوتے ہیں۔یقین جانیے، علم اور معیار کی منظم تذلیل انہی ہاتھوں سے ہو رہی ہے۔
انجامِ کلام:
غلطی اگر تنہا ہو تو لغزش،اور اگر نقل در نقل پھیل جائے تو فتنہ بن جاتی ہے۔بلا تردد یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ فرضی دستار بندی کا فتنہ ہمارے یہاں جڑ پکڑ چکا ہے۔
اسلامی فکر و حمیت پر کسی کی اجارہ داری نہ ہو _تواصلاحِ فکر و عمل کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔دیر ہی سہی، مگر درست سمت میں قدم بڑھانا ہی اصل کامیابی ہے۔




