سبھی ضلع اقلیتی بہبود افسران سے غیر ملکی فنڈنگ متعلق جانچ رپورٹ اور دستاویزات طلب، جانچ میں تیزی
تصدیقی عمل کے دوران، مدارس، اداروں اور ان کے منتظمین کے بینک کھاتوں میں لین دین کی تفصیلات حاصل کی جائیں اور ان کی تصدیق کی جائے اور تصدیقی رپورٹ ہر صورت میں دو ہفتوں کے اندر فراہم کی جائے۔
لکھنؤ: اتر پردیش حکومت کی ہدایت پر ریاست میں چل رہے تقریباً چار ہزار مدارس کی فنڈنگ اور قانونی حیثیت کی جانچ کے لیے کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں یوپی کے محکمۂ اقلیتی بہبود کی جانب سے بھی ضلع اقلیتی بہبود افسران کو مکتوب بھیج کر کہا گیا ہے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کی جانچ میں تعاون کریں اور ضروری دستاویزات اور جانچ رپورٹ فراہم کرائیں۔ حکومت کی جانب سے اے ٹی ایس کی جانچ میں تیزی لانے سے ایک بار پھر مدارس کے ذمہ داران میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یوپی کے محکمۂ اقلیتی بہبود کے ڈائریکٹر امت کمار گردون کی جانب سے بھی ضلع اقلیتی بہبود افسران کو بھیجے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں تقریباً ۱۲۰۰۰ مدارس کو ملنے والی فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اے ٹی ایس کی تمام فیلڈ یونٹس کو ان کے دائرۂ کار میں چلنے والے منظور شدہ اور غیر منظور شدہ مدارس کی فہرست فراہم کراتے ہوئے ان کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ تصدیقی عمل کے دوران، مدارس، اداروں اور ان کے منتظمین کے بینک کھاتوں میں لین دین کی تفصیلات حاصل کی جائیں اور ان کی تصدیق کی جائے اور تصدیقی رپورٹ ہر صورت میں دو ہفتوں کے اندر فراہم کی جائے۔ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ مدارس کے پاس بڑی بڑی عمارتیں ہیں، تاہم منتظمین ان عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے آمدنی کا کوئی مستند ذریعہ فراہم نہیں کرتے ہیں۔ ایسے مدارس کی تعمیر کے ماخذ کی مکمل تصدیق کی جائے اور رپورٹ پیش کی جائے۔ مذکورہ مدارس میں غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے مقامی ذرائع، انٹیلی جنس یونٹ اور ضلعی سطح سے معلومات حاصل کی جائیں اور اسے تیار کیا جائے اور اس سے محکمے کو آگاہ کیا جائے تاکہ سامنے آنے والے حقائق پر قابلِ عمل کارروائی کی جا سکے۔ مذکورہ بالا نکات میں سے ہر ایک کی جانچ پڑتال کےبعد اس بات کو یقینی بنائیں کہ سفارشات کے ساتھ رپورٹ بغیر کسی تاخیر کے فراہم کی جائے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اگر اے ٹی ایس کی کوئی فیلڈ یونٹ ضلع سے رابطہ کرتی ہے تو مدارس کی تحقیقات میں مکمل تعاون فراہم کیا جائے۔
واضح رہے کہ ڈائریکٹر کے مکتوب میں ۶ دسمبر ۲۰۲۵ کو ہوئی ایک اہم میٹنگ کا ذکر کیا گیا ہے، جس کی صدارت ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (اے ٹی ایس) نے کی تھی۔ میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ مدارس کی آمدنی کے ذرائع، خاص کر غیر ملکی فنڈنگ اور تعمیرات کی تفصیلی جانچ کی جائے۔ کمیٹی نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ مقامی انٹیلی جنس یونٹس کے ذریعے معلومات اکٹھی کی جائیں اور مدارس سےمتعلق تمام مالی لین دین، تعمیراتی اجازت ناموں اور انتظامی ڈھانچے کی مکمل جانچ کی جائے۔ اگر کسی بھی مدرسے کا تعلق غیر قانونی یا ملک مخالف سرگرمیوں سے پایا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض علاقوں میں بڑے بڑے مدارس اور عمارتیں قائم کی گئی ہیں لیکن ان کی تعمیر سے متعلق کوئی مستند اجازت یا قانونی دستاویزات دستیاب نہیں ہیں۔ اسی طرح کچھ مدارس میں فنڈنگ کے ذرائع مشکوک پائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے سیکورٹی ادارے الرٹ ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد کسی خاص طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ سرکاری فنڈز کے درست استعمال اور ریاست کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔


