تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں
(۱) قانونِ فطرت
اگر کھیت میں “دانہ” نہ ڈالا جائے تو قدرت اسے “گھاس پھوس” سے بھر دیتی ہے۔
اسی طرح اگر “دماغ” کو “اچھی فکروں” سے نہ بھرا جائے تو “کج فکری” اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف “الٹے سیدھے” خیالات آتے ہیں اور وہ “شیطان کا گھر” بن جاتا ہے۔
اس لیے مثبت سوچیں، اچھا سوچیں۔
(۲) قانونِ فطرت
جس کے پاس “جو کچھ” ہوتا ہے وہ “وہی کچھ” بانٹتا ہے۔
خوش مزاج انسان “خوشیاں” بانٹتا ہے۔
غم زدہ انسان “غم” بانٹتا ہے۔
عالم “علم” بانٹتا ہے۔
دیندار انسان “دین” بانٹتا ہے۔
خوف زدہ انسان “خوف” بانٹتا ہے۔
اس لیے خود میں مثبت احساس پیدا کریں، اچھی چیزیں سیکھیں، مصروف رہیں، خوش رہیں۔
(۳) قانونِ فطرت
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو، اسے “ہضم” کرنا سیکھیں، اس لیے کہ:
کھانا ہضم نہ ہونے پر “بیماریاں” پیدا ہوتی ہیں۔
مال و ثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں “ریاکاری” بڑھتی ہے۔
بات ہضم نہ ہونے پر “چغلی” اور “غیبت” بڑھتی ہے۔
تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں “غرور” میں اضافہ ہوتا ہے۔
غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں “مایوسی” بڑھتی ہے۔
اس لیے ہضم کرنا سیکھیں۔
اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک “بامقصد” اور “بااخلاق” زندگی گزاریں، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔
خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں۔



