عالمی انکشافات

ایپسٹین فائلز: طاقتور چہروں کے پیچھے چھپی ہوئی تاریک دنیا

غلام مصطفےٰ نعیمی (روشن مستقبل دہلی)

ایپسٹین فائلز
طاقتور چہروں کے خوفناک راز!۔۔۔۔آنکھیں کھلی رکھیں!!

ایپسٹین فائلز کے صفحات نے سیاست، تجارت، سائنس اور آرٹ سے وابستہ بڑے بڑے ناموں کو بے نقاب کر دیا ہے۔جیسے جیسے فائلز کھل رہی ہیں، ویسے ویسے شریفوں کی شرافت بھی سامنے آتی جا رہی ہے۔امریکہ کے محکمہ انصاف(DOJ) کے مطابق ابھی تک محض چنندہ فیصد فائلز ہی کھولی گئی ہیں، اچھا خاصا مواد ابھی زیر جائزہ اور باقی ہے۔اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چنندہ فائلز کی زد میں امریکہ و یوروپ سے ایشیا تک کے بڑے بڑے نام آچکے ہیں تو باقی ماندہ صفحات میں خدا جانے کیسے کیسے نام نکل کر آسکتے ہیں۔لوگ بڑی شدت کے ساتھ ان تمام فائلز کے عوامی ہونے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ سفید پوشوں کی دنیا میں کوئلے سے بدتر افراد کون کون ہیں۔

اگر ایپسٹین زندہ ہوتا؟

ایپسٹین کا کیس بڑا عجیب و غریب ہے۔محض سترہ سال کی عمر میں یہ شخص بغیر ڈگری کے نیویارک کے ڈالٹن اسکول میں ریاضی (Mathematics) کا ٹیچر بنا ہوا تھا۔انتیس سال کی عمر میں اپنی خود کی فرم بنا چکا تھا۔یہ فرم ایک ارب ڈالر سے زائد جائدادوں کا انتظام و انصرام سنبھالتی تھی۔دیکھتے ہی دیکھتے ایپسٹین چھ سو ملین ڈالر یعنی تقریباً ساڑھے پانچ ہزار کروڑ ہندوستانی روپوں کا مالک بن چکا تھا۔سن 1998 میں ایپسٹین نے قریب سات ارب کی خطیر رقم سے ایک 75 ایکڑ کا جزیرہ(Island) خریدا۔یہی جزیرہ دنیا بھر کے نام نہاد مہذب لوگوں کی عیاشیوں کا سب سے محفوظ اڈا بن گیا۔ایپسٹین کے تعلقات سابق امریکی صدر بل کلنٹن، موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، برطانوی شہزادے اینڈریو ، مائکروسافٹ کے بانی بِل گیٹس، سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود بارک اور مشہور سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ جیسے لوگوں سے بنتے چلے گیے۔دنیا کے سامنے مہذب دکھنے والے یہ گندے لوگ اسی جزیرے میں حاضر ہوتے اور آٹھ دس سال کی نوخیز بچیوں کے ساتھ جنسی درندگی کا ایسا گھناؤنا کھیل کھیلتے جس کی تصویریں آپ کو بے چین کر دیں۔اب انہیں عیاشیوں کی تصویریں اور ویڈیوز نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ایپسٹین پر 2005 میں جنسی زیادتی کا کیس درج ہوا تھا۔اٹھارہ مہینے کی جیل ہوئی لیکن اس کے تعلقات اور کاروبار پر کوئی فرق نہیں پڑا۔جولائی 2019 میں ایپسٹین کو کم عمر بچیوں کا جنسی ریکٹ چلانے کے جرم میں دوبارہ گرفتار کیا گیا لیکن گرفتاری کے محض ایک مہینے بعد ہی جیل میں انتہائی پر اسرار طریقے سے ایپسٹین کی موت ہوگئی۔جسے خود کشی کا نام دیا گیا۔جس سیل میں ایپسٹین بند تھا، موت والے دن حفاظتی گارڈ غیر حاضر تھے اور سی سی ٹی کیمرے بند تھے۔اس طرح ایپسٹین کی موت کے ساتھ ہی بہت سارے ایسے راز بھی ختم ہوگیے جسے صرف اس کی زبان ہی کھول سکتی تھی۔غنیمت یہ رہی ہے کہ اس نے اپنے جزیرے میں خفیہ کیمروں کے ذریعے ان تمام لوگوں کی تصویریں اور ویڈیوز ریکارڈ کر رکھے تھے۔ای میلز پر ہونے والی ساری گفتگو ریکارڈ تھی۔اب وہی ریکارڈ دنیا کے سامنے آرہے ہیں اور جنسی حیوانوں کے چہروں سے نقاب اٹھتا جا رہا ہے۔

ایپسٹین کے گراہک:

ایپسٹین بنیادی طور پر ایلیٹ کلاس کے فنانس کے کام دیکھتا تھا اس لیے اس کے گاہکوں میں دنیا بھر سیلبرٹیز شامل ہیں۔کئی عرب حکمرانوں اور تاجروں کے نام بھی ایپسٹین فائلز میں سامنے آئے ہیں۔دو دن پیش تر بھارت کے مشہور صنعت کار انل امبانی کا نام بھی ایپسٹین فائل میں نکل آیا۔Bloomberg کی رپورٹ کے مطابق سال 2017 سے 2019 کے درمیان جیفری ایپسٹین اور انل امبانی کے بارہا بات چیت ہوئی اور مین ہٹن میں واقع اس کے گھر پر ملاقات بھی ہوئی۔ایک میٹنگ کو “مزے دار اور دل چسپ” بنانے کے لیے امبانی جی نے کسی “لمبی اور خوب صورت سویڈش لڑکی” کا انتظام کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔واضح رہے کہ گفتگو اس وقت ہوئی جب ایپسٹین اٹھارہ ماہ کا سزا یافتہ قیدی اور جنسی ٹریفکنگ کے لیے بدنام تھا۔اس کے باوجود بھارت کا اتنا بڑا صنعت کار اس سے ملاقات کرتا ہے اور سویڈش لڑکی کی فرمائش بھی، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اخلاقی اعتبار سے یہ لوگ کتنے گرے ہوئے ہیں۔امبانی کے علاوہ کچھ بھارتی لیڈروں کے نام بھی ایپسٹین فائلز کے حوالے سے میڈیا میں آئے ہیں لیکن تا حال اس کی تفصیلات منظر عام پر نہیں ہیں۔یہ دیکھنا دل چسپ ہوگا کہ ہمارے ملکی لیڈران کا ایپسٹین جیسے شخص سے کس نوعیت کے تعلقات تھے اور تعلقات کی منشا و مقصد کیا تھا؟

ایپسٹین مہرہ تھا یا مالک؟

ایپسٹین جیسے انسان کا دنیا بھر کے نمائندہ افراد تک رسائی حاصل کرنا۔سمندر میں انتہائی محفوظ اور لگژری جزیرہ تیار کرنا۔کم عمر لڑکیاں جمع کرنا۔سامان عیاشی فراہم کرنا اور انتہائی ہوشیاری سے سب کچھ خفیہ کیمروں میں ریکارڈ کرنا، کیا تم تنہا ایپسٹین اور اس کی خاتون دوست گِسلین میکسویل (Ghislaine Maxwell) ہی کا کام تھا؟
آپ کتنا بھی سمجھنے کی کوشش کرلیں لیکن کسی طور پر یہ سمجھ نہیں آتا کہ ایک فنانس ایڈوائزر اتنا بڑا منصوبہ اور سازش کیسے بنا سکتا ہے جس میں کلنٹن اور ٹرمپ جیسے امریکی صدر، بل گیٹس اور ایلون مسک جیسے صنعت کار اور اسٹیفن ہاکنگ اور پرنس اینڈریو جیسے جانے مانے لوگ بھی پھنس جائیں۔
آپ باریکی سے سارے معاملات کا تجزیہ کریں۔ساری کڑیوں کو جوڑ کر دیکھیں تو واضح ہو جائے گا کہ ایپسٹین صرف مہرہ بھر تھا۔اس کے پیچھے یقیناً کچھ ایسے لوگ تھے جن کا مقصد محض دولت نہیں بل کہ کچھ اور بھی تھا۔
دوسرے ممالک کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے منصوبے اور مخصوص حکمرانوں کو دام فریب میں لینے کی سازشیں اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ معاملہ اتنا ہی نہیں ہے جتنا دکھائے جانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔اس وقت سارا معاملہ ایپسٹین اور اس کی خاتون دوست تک محدود کرنے کی پالیسی پر کام چل رہا ہے۔ایپسٹین پر اسرار حالات میں مر چکا، اس کی خاتون دوست بیس سال کی سزا کاٹ رہی ہے۔ممکن ہے کسی دن اس کی بھی خود کشی یا کسی اور معاملے میں موت کی خبر آجائے۔اس طرح بہت سارے حقائق یوں ہی ختم ہوجائیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ایپسٹین کے مقاصد، طریقہ کار اور پالیسیاں بنانے والوں کے مزاج و اطوار پر نظر رکھی جائے۔تعلیم، صحت اور فلاح و چیرٹی سے متعلق کسی بھی عالمی تنظیم یا آرگنائزیشن کی پالیسی پر آنکھ بند کرکے یقین نہ کریں۔پس پردہ حقائق جاننے کی بھر پور کوشش کریں تاکہ کوئی ایجنسی تعیلم یا بچپن کے نام پر کم عمر بچوں کو اپنے گندے مقاصد کا ذریعہ بنا کر دنیا پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کر سکے۔ہم اور ہماری نسلیں کسی ایجنسی کی ذہنی غلام نہ بن سکیں۔

20 شعبان المعظم 1447ھ
9 فروری 2026 بروز پیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button