(عرسِ امام کی مناسبت سے)
سیدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے شاگردوں کو چند کارآمد نصیحتیں اور وصیتیں فرمائیں، ایسی نصیحتیں کہ جو ایک عام انسان کی زندگی کے اندر بھی ظاہری اصلاح اور باطنی تربیت کے حوالے سے کلیدی رول پلے کرتی ہیں۔ آپ نے اپنے خاص شاگرد امام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نام جو وصیتیں تحریر فرمائیں وہ آپ کے ایک مہربان استاذ، عظیم دانش ور اور ماہرِ نفسیات ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ وصیتیں ہر ایک کے لیے یکساں فلاح و کامرانی کی ضمانت بھی ہیں۔
امام ابویوسف علیہ الرحمہ کی شخصیت سے جب حسنِ سیرت اور اعلیٰ کردار کے پہلو ہویدا ہوئے اور وہ لوگوں کے معاملات کو سلجھانے کی جانب راغب ہوئے تو انھیں وصیت فرمائی کہ: اے یعقوب! سلطانِ وقت کی عزت کرو اور اس کے مقام کا خیال رکھو اور اس کے سامنے دروغ سے خاص طور پر پرہیز کرو۔ اور ہر وقت اس کے پاس حاضر نہ رہو جب تک کہ تمہیں کوئی علمی ضرورت مجبور نہ کرے، کیونکہ جب اس سے کثرت سے ملوگے تو وہ تمہیں حقارت کی نظر سے دیکھے گا اور تمہارا مقام اس کی نظروں سے گر جائے گا۔ پس تم اس کے ساتھ ایسا معاملہ رکھو جیسا آگ کے ساتھ رکھا جاتا ہے کہ تم اس سے نفع بھی اٹھاتے ہو اور دور بھی رہتے ہو، اس کے قریب تک نہیں جاتے کیونکہ اکثر حاکم اپنی ذات اور اپنے مفادات کے علاوہ کچھ اور دیکھنا پسند نہیں کرتے۔
تم حاکم کے قریب کثرتِ کلام سے بچو کہ وہ تمہاری گرفت کرے گا تاکہ اپنے حاشیہ نشینوں کو یہ دکھلا سکے کہ وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے اور تمہارا محاسبہ کرے گا تاکہ تم اس کے حواریوں کی نظر میں حقیر ہوجاؤ۔ بلکہ ایسا طرز عمل اختیار کرو کہ جب اس کے دربار میں جاؤ تو وہ دوسروں کے مقابلے میں تمہارے رتبے کا خیال رکھے۔ اور سلطان کے دربار میں کسی ایسے وقت نہ جاؤ جب وہاں دیگر ایسے اہل علم موجود ہوں جن کو تم جانتے نہ ہو، اس لئے کہ اگر تمہارا علمی رتبہ ان سے کم ہوگا تو ممکن ہے کہ تم ان پر برتری ثابت کرنے کی کوشش کرو مگر یہ جذبہ تمہارے لیے نقصان دہ ہوگا، اور اگر ان سے زیادہ صاحبِ علم ہو تو شاید تم ان کو کسی بات پر جھڑک دو اور اس وجہ سے تم حاکمِ وقت کی نظروں سے گر جاؤ۔
مذکورہ وصیتیں آج بھی اسی قدر اہمیت رکھتی ہیں جس قدر امام ابویوسف علیہ الرحمہ کے دور میں رکھتی تھیں بلکہ آج کے دور میں تو ان کی اہمیت مزید فزوں تر ہوجاتی ہے۔ وہ دور تو اسلافِ اوّل کا دور اور خیرالقرون کے امتیازی وصف سے متصف دور تھا، پھر بھی امامِ اعظم نے اپنے شاگرد کو یہ وصیتیں فرمائیں؛ مگر آج تو مذہبی امور تئیں مداہنت، حاکموں کی کاسہ لیسی اور امراء کی خوشامدی، نیم پڑھے لکھے طبقے بلکہ جان کی امان پاؤں تو کہوں کہ اپنے کو مذہبی رہنما سمجھنے والوں کی ایک تعداد کا طغرہ بن چکی ہے، اگرچہ درحقیقت وہ رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہوں یا نہیں۔ حاکموں سے قربت کے لئے ان کی رالیں ٹپکتی ہیں، عزتِ نفس اور اپنے مقام کی قطعاً پرواہ کیے بغیر خود کو مواضعِ تہمت میں لاکھڑا کرتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے دین کی خدمت کم، مذہبی شعائر کا خسارہ زیادہ ہوتا ہے۔ ان سب خساروں کو مدنظر رکھتے ہوئے آج ہمیں ہمارے امام کی ان وصایا کو گانٹھ سے باندھ لینا چاہئے اور انھیں حرز بنانے کی ہر ممکن سعی کرنی چاہئے۔
ایک دوسرے مقام پر اپنے عزیز شاگرد کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ: سلطان کے مقربین اور اس کے حاشیہ نشینوں سے میل جول مت رکھنا، صرف سلطانِ وقت سے رابطہ رکھنا اور اس کے حاشیہ برداروں سے الگ رہنا تاکہ تمہارا وقار اور عزت برقرار رہے۔
عوام کے ساتھ محتاط طرزِ عمل رکھو۔ عوام کے پوچھے گئے مسائل کے علاوہ ان سے بلا ضرورت بات چیت نہ کیا کرو۔ عوام الناس اور تاجروں سے علمی باتوں کے علاوہ دوسری باتیں نہ کیا کرو تاکہ انہیں تمہاری محبت و رغبت میں مال کا لالچ نظر نہ آئے، ورنہ لوگ تم سے بدگمان ہوں گے اور یقین کرلیں گے کہ تم ان سے رشوت لینے کا میلان رکھتے ہو۔ عام لوگوں کے سامنے ہنسنے اور زیادہ مسکرانے سے باز رہو اور بازار میں بکثرت جایا نہ کرو۔ بے ریش لڑکوں سے زیادہ بات چیت نہ کیا کرو کہ وہ فتنہ ہیں، البتہ چھوٹے بچوں سے بات کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ان کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرا کرو۔ عام لوگوں اور بوڑھوں کے ساتھ شاہراہ پر نہ چلو، اس لیے کہ اگر تم ان کو آگے بڑھنے دوگے تو اس سے علمِ دین کی بے توقیری ظاہر ہوگی اور اگر تم ان سے آگے چلوگے تو یہ بات بھی معیوب ہوگی کہ وہ عمر میں تم سے بڑے ہیں۔
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو شخص چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور بزرگوں کی تعظیم نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
کسی راہ گذر پر نہ بیٹھا کرو اور اگر بیٹھنے کا دل چاہے تو مسجد میں بیٹھا کرو۔ بازاروں اور مساجد میں کوئی چیز نہ کھایا کرو۔ پانی کی سبیل اور وہاں پانی پلانے والوں کے ہاتھ سے پانی نہ پیو۔ مخمل، زیور اور انواع و اقسام کے ریشمی ملبوسات نہ پہنو کہ اس سے غرور پیدا ہوتا ہے اور رعونت جھلکتی ہے۔
مذکورہ وصیتیں/نصیحتیں حکمت کے وہ موتی ہیں کہ اگر ان پر عمل پیرا ہو لیا جائے تو زندگی حسین بن جائے اور مذہبی طبقے کا قد معاشرے میں نہایت زیادہ بڑھ جائے۔ بس عمل اور تحریکِ عمل کی ضرورت ہے۔
ازدواجی زندگی کے آداب
اپنی فطری حاجت کے وقت بقدرِ ضرورت گفتگو کے سوا بستر پر اپنی بیوی سے زیادہ بات نہ کرو، اور اس کے ساتھ کثرت سے لمس و مس اختیار نہ کرو۔ اور جب بھی اس کے پاس جاؤ تو اللہ کے ذکر کے ساتھ جاؤ۔ اور اپنی بیوی سے دوسروں کی عورتوں کے بارے میں بات نہ کیا کرو کہ وہ تم سے بے تکلف ہو جائیں گی، اور بہت ممکن ہے کہ جب تم دوسری عورتوں کا ذکر کرو گے تو وہ بھی تم سے دوسرے مردوں کے متعلق بات کریں گی۔
اگر تمہارے لیے ممکن ہو تو کسی ایسی عورت سے نکاح نہ کرو جس کے شوہر نے اس کو طلاق دی ہو اور باپ، ماں یا سابقہ خاوند سے لڑکی موجود ہو، لیکن صرف اس شرط پر کہ تمہارے گھر اس کا کوئی رشتہ دار نہیں آئے گا۔ اس لیے کہ جب عورت مال دار ہوجاتی ہے تو اس کا باپ دعویٰ کرتا ہے کہ اس عورت کے پاس جو بھی مال ہے وہ سب اس کا ہے اور اس عورت کے پاس امانت کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہوگا وہ بھی اپنے والد کے گھر نہیں جائے گی۔
تم اپنی دو بیویوں کو ایک ہی مکان میں نہ رکھنا، اور جب تک دو بیویوں کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کی قدرت نہ ہو، دوسرا نکاح نہ کرنا۔
امورِ زندگی کی ترتیب
امورِ زندگی کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے علم حاصل کرو، پھر حلال ذرائع سے مال جمع کرو اور پھر ازدواجی رشتہ اختیار کرو۔ علم حاصل کرنے کے زمانے میں اگر تم مال کمانے کی جدوجہد کروگے تو تم حصولِ علم سے قاصر رہ جاؤ گے اور یہ مال تمہیں باندیوں اور غلاموں کی خریداری پر اکساۓ گا اور تحصیلِ علم سے قبل ہی تمہیں دنیا کی لذتوں اور عورتوں کے ساتھ مشغول کردے گا، اس طرح تمہارا وقت ضائع ہوجائے گا۔
اور جب تمہارے اہل و عیال کی کثرت ہوجائے گی تو تمہیں ان کی ضروریات پوری کرنے کی فکر ہوجائے گی اور تم علم سیکھنا چھوڑ دوگے۔ اس لیے علم حاصل کرو آغازِ شباب میں جب کہ تمہارے دل و دماغ دنیا کے بکھیڑوں سے فارغ ہوں، پھر مال کمانے کا مشغلہ اختیار کرو تاکہ شادی سے قبل تمہارے پاس بقدرِ ضرورت مال ہو؛ کہ اس کے بغیر اہل و عیال کی ضروریات دل کو تشویش میں مبتلا کردیتی ہیں، لہذا کچھ مال جمع کرنے کے بعد ہی ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہیے۔
ہمارے امام کی یہ وصیتیں زندگی کو ایک انوکھا آہنگ اور مہذب ڈھب فراہم کرتی ہیں۔ زندگی گزارتے تو سب ہیں مگر اس انداز میں زندگی گزارنا کہ وہ زندگی بہتوں کے لیے مشعلِ راہ اور آئیڈیل کی حیثیت اختیار کر جائے، حقیقت میں انسانیت کی معراج اسی طرز کی زندگی گزارنے سے وابستہ ہے۔ رب کریم ہمیں حسنِ معاشرت کی دولت عطا فرمائے اور باشعور بنائے۔
ہمارے امام کو قسامِ ازل نے ایسی پختہ فکر، شستہ سوچ اور گہری عقل عطا فرمائی تھی کہ بقول علما: اگر امام کی عقل کا روئے زمیں کی نصف انسانی عقلوں سے موازنہ کیا جائے تب بھی امام صاحب علیہ الرحمہ کی عقل کا پلڑا بازو وں اور بھاری رہے گا۔ حسنِ تدبر، تعمیقِ فکر، بالغ نظری، ذکاوت، لطافت اور معاملہ فہمی میں آپ عدیم النظیر اور بے مثال تھے۔ رافضیت، لادینیت اور بطور خاص خارجیت کے کتنے ہی حربوں اور منصوبوں کو آپ نے اپنے حسنِ تدبر اور عقلی استحکام سے خاک میں ملا دیا۔
طالبانِ دین، بطور خاص اپنے ہونہار شاگردوں کو وقتاً فوقتاً اپنے قیمتی نصائح اور حکیمانہ مواعظ سے مستفیض فرماتے رہتے۔ آپ کے شاگردوں نے ان وصیتوں اور نصیحتوں کو تبرک سمجھ کر سطروں کا پیرہن دے دیا کہ جو کتابی صفحات پر آج بھی مہ و انجم کی طرح جگمگا رہا ہے۔
سیرت و کردار کی تعمیر کے حوالے سے ارشاد فرمایا
اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، ادائے امانت اور ہر خاص و عام کی خیر خواہی کا خصوصی خیال رکھو اور لوگوں کو عزت دو تاکہ وہ تمہاری عزت کریں۔ عام لوگوں سے دینی امور کے ضمن میں علمِ کلام (عقائد کے قضایا) پر گفتگو سے پرہیز کرو تاکہ وہ لوگ تمہاری تقلید کریں اور علمِ کلام میں مشغول ہوجائیں گے۔ جو شخص تمہارے پاس استفتاء کے لیے آئے اس کو صرف اس کے سوال کا جواب دو اور دوسری کسی بات کا اضافہ نہ کرو ورنہ اس کے سوال کا غیر محتاط جواب تمہیں تشویش میں مبتلا کرسکتا ہے۔
علم سکھانے سے کسی حالت میں اعراض نہ کرنا اگرچہ تم دس سال تک اس طرح رہو کہ تمہارا نہ کوئی ذریعۂ معاش ہو، نہ کوئی اکتسابی طاقت، کیونکہ اگر تم علم سے اعراض کروگے تو تمہاری معیشت (گزر بسر) تنگ ہوجائے گی۔ تم اپنی ہر فقہ سیکھنے والے طالب علم پر ایسی توجہ رکھو کہ گویا تم نے ان کو اپنا بیٹا اور اولاد بنا لیا ہے تاکہ تم ان میں علم کی طرف رغبت کے فروغ کا باعث بنو۔ اگر کوئی عام شخص اور بازاری آدمی تم سے جھگڑا کرے تو اس سے جھگڑا نہ کرنا ورنہ تمہاری عزت چلی جائے گی۔ اور اظہارِ حق کے موقع پر کسی شخص کی جاہ و حشمت کا خیال نہ کرو اگرچہ وہ سلطانِ وقت ہو۔
جتنی عبادت دوسرے لوگ کرتے ہیں اس سے زیادہ عبادت کرو، ان سے کم تر عبادت کو اپنے لیے پسند نہ کرو بلکہ عبادت میں سبقت اختیار کرو۔ کیونکہ عوام جب کسی عبادت کو بکثرت کر رہے ہوں اور پھر وہ دیکھیں کہ تمہاری توجہ اس عبادت پر نہیں ہے تو وہ تمہارے متعلق عبادت میں کم رغبت ہونے کا گمان کریں گے اور یہ سمجھیں گے کہ تمہارے علم نے تمہیں کوئی نفع نہیں پہنچایا سوائے اسی نفع کے جو ان کو ان کی جہالت نے بخشا ہے جس میں وہ مبتلا ہیں۔
آدابِ معاشرت
ہمارے امام نے اپنے شاگردوں کو ہمہ جہت نصیحتیں فرمائیں۔ ایسی حکمت آمیز نصیحتیں کہ جن پر عمل پیرا ہونے سے زندگی آسان بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معیشت سے معاشرت تک اور انفرادیت سے اجتماعیت تک کے مراحل کو آپ کی نصیحتیں احاطہ کرتی نظر آتی ہیں۔
آدابِ زندگی، اسلامی اخلاق و آداب اور مجالسِ علما میں شرکت کے اصولوں کو زریں کلمات میں آپ نے پیش فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں:
جب تم کسی ایسے شہر میں قیام کرو جس میں اہلِ علم بھی ہوں تو وہاں اپنی ذات کے لیے کوئی امتیازی حیثیت اختیار نہ کرو بلکہ اس طرح رہو کہ گویا تم بھی ایک عام سے شہری ہو تاکہ ان کو یقین ہو جائے کہ تمہیں ان کی جاہ و منزلت سے کوئی سروکار نہیں۔ ورنہ اگر انہوں نے تم سے اپنی عزت کو خطرے میں محسوس کیا تو وہ سب تمہارے خلاف کام کریں گے اور تمہارے مسلک پر کیچڑ اچھالیں گے اور ان کی شہ پر عوام بھی تمہارے خلاف ہوجائیں گے اور تمہیں بری نظر سے دیکھیں گے، جس کی وجہ سے تم ان کی نظروں میں کسی قصور کے بغیر مجرم بن جاؤ گے۔
اگر وہ تم سے مسائل دریافت کریں تو ان سے مناظرہ یا جلسہ گاہوں میں بحث و تکرار سے باز رہو اور جو بات ان سے کرو وہ واضح دلیل کے ساتھ کرو۔ اور ان کے اساتذہ کو طعنہ نہ دو ورنہ وہ تمہارے اندر بھی کیڑے نکالیں گے۔ تمہیں چاہیے کہ لوگوں سے ہوشیار رہو اور اپنے باطنی احوال کو اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا خالص بنالو جیسا کہ تمہارے ظاہری احوال ہیں۔ اور علم کا معاملہ اصلاح پذیر نہیں ہوتا تاوقتیکہ تم اس کے باطن کو ظاہر کے مطابق نہ بنالو۔
جب سلطان وقت تمہیں کوئی ایسا منصب دینا چاہے جو تمہارے لیے مناسب نہیں تو اسے اس وقت تک قبول نہ کرو جب تک کہ تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اس نے جو منصب تمہیں سونپا ہے وہ محض تمہارے علم کی وجہ سے سونپا ہے۔ اور مجلسِ فکر و نظر میں ڈرتے ہوئے کلام مت کرو کیونکہ یہ خوفزدگی کلام میں اثر انداز ہوگی اور زبان کو ناکارہ بنادے گی۔
زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے۔ چلنے کے دوران سکون و اطمینان سے چلو اور امورِ زندگی میں زیادہ عجلت پسند مت بنو۔ اور جو تمہیں پیچھے سے آواز دے اس کی آواز کا جواب مت دو کہ پیچھے سے آواز چوپایوں کو دی جاتی ہے۔ اور گفتگو کے وقت نہ چیخو اور نہ ہی اپنی آواز کو زیادہ بلند کرو۔ سکون اور قلتِ حرکت کو اپنی عادت میں شامل کرو تاکہ لوگوں کو تمہاری ثابت قدمی کا یقین ہوجائے۔
اپنے لیے تم نماز کے بعد ایک وظیفہ مقرر کرلو جس میں تم قرآن کریم کی تلاوت کرو اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ اپنے نفس کی دیکھ بھال رکھو۔ تمہیں چاہیے کہ بذاتِ خود خرید و فروخت مت کرو بلکہ اس کے لیے ایک ایسا خدمتگار رکھو جو تمہاری ایسی حاجتوں کو بحسن و خوبی پورا کرے اور تم اس پر اپنے دنیاوی معاملات میں اعتماد کرو۔
سلطان وقت سے اپنے خصوصی تعلق کو لوگوں پر ظاہر نہ ہونے دو اگرچہ تمہیں اس کا قرب حاصل ہو، ورنہ لوگ تمہارے سامنے اپنی حاجتیں پیش کریں گے اور اگر تم نے لوگوں کی حاجتوں کو اس کے دربار میں پیش کرنا شروع کردیا تو وہ تمہیں تمہارے مقام سے گرا دے گا اور اگر تم نے ان کی حاجتوں کی تکمیل کے لیے کوشش نہ کی تو حاجت مند تمہیں الزام دیں گے۔
آدابِ وعظ و نصیحت
غلط باتوں میں لوگوں کی پیروی نہ کرو بلکہ صحیح باتوں میں ان کی پیروی کرو۔ جب تم کسی شخص میں برائی دیکھو تو اس شخص کا تذکرہ اس برائی کے ساتھ نہ کرو بلکہ اس سے بھلائی کی امید رکھو، اور جب وہ بھلائی کرے تو اس کی اس بھلائی کا ذکر کرو۔ البتہ اگر تمہیں اس کے دین میں خرابی معلوم ہو تو لوگوں کو اس سے ضرور آگاہ کردو تاکہ لوگ اس کی اتباع نہ کریں اور اس سے دور رہیں۔
آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ فاسق و فاجر آدمی جس برائی میں مبتلا ہے اسے بیان کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں، اگرچہ وہ شخص صاحبِ جاہ و منزلت ہو۔ اسی طرح جس شخص کے دین میں تم خلل دیکھو اسے بھی بیان کرو، اور اس کے عزت و مرتبہ کی پرواہ نہ کرو۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ تمہارا اور اپنے دین کا معین و مددگار ہے۔ اگر تم ایک مرتبہ ایسا کرو گے تو وہ لوگ تم سے ڈریں گے اور کوئی شخص دین میں نئے گمراہ کن افکار و اعمال کے اظہار کی جسارت نہیں کرسکے گا۔
تم موت کو یاد رکھو اور اپنے ان اساتذہ کے لیے جن سے تم نے علم حاصل کیا ہے، استغفار کیا کرو اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو۔ قبرستان، مشائخ اور بابرکت مقامات کی کثرت سے زیارت کیا کرو۔ کھیل کود اور گالم گلوچ سے اجتناب کرو اور جب مؤذن اذان دے تو عوام سے قبل مسجد میں داخل ہونے کی تیاری کرو تاکہ عام لوگ اس بات میں تم سے آگے نہ نکل جائیں۔
اگر اپنے پڑوسی میں کوئی برائی دیکھو تو پوشیدہ رکھو کہ یہ بھی امانت داری ہے اور لوگوں کے بھید ظاہر نہ کرو، اور جو شخص تم سے کسی معاملے میں مشورہ لے تو اسے اپنے علم کے مطابق صحیح مشورہ دو کہ یہ بات تم کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والی ہے۔ اور میری اس وصیت کو اچھی طرح یاد رکھنا کہ یہ وصیت تمہیں ان شاء اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں نفع دے گی۔
شائع کردہ: حجۃ الاسلام نیٹورک
