ہندوستان کی سیاست میں اس وقت جو منظرنامہ ابھر کر سامنے آیا ہے، وہ ایک آئینی کارروائی نہیں بلکہ طاقت، اختیار اور جمہوری ساکھ کے درمیان جاری کشمکش کی نئی قسط ہے۔ لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک کا نوٹس داخل ہونا معمولی واقعہ نہیں ہوتا، کیونکہ اسپیکر کا منصب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آخری آئینی توازن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
جب اپوزیشن کی ایک بڑی تعداد یہ محسوس کرے کہ ایوان کی کرسی غیر جانب داری کے تقاضے پورے نہیں کر پا رہی تو یہ شکایت محض سیاسی بیان نہیں رہتی بلکہ ایک ادارہ جاتی سوال بن جاتی ہے۔ کانگریس کی جانب سے ضابطہ 94-سی کے تحت اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک کا نوٹس داخل کیا جانا اسی نوعیت کی پیش رفت ہے۔ اس نوٹس کی حمایت 118 ارکانِ پارلیمنٹ نے کی، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اپوزیشن کی ناراضگی وقتی احتجاج نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور منظم ردِعمل ہے۔
اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ حالیہ عرصے میں ایوان کی کارروائی چلانے کے انداز نے پارلیمانی روایات کو مجروح کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بحث و مباحثے کے مواقع محدود کیے گئے، قائدِ حزبِ اختلاف کو اظہارِ خیال کی مکمل آزادی نہیں دی گئی، اور بعض معاملات میں حکومتی مؤقف کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا گیا۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی معطلی کے واقعات نے بھی اس تاثر کو تقویت دی کہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے نظم و ضبط کے نام پر دبایا جا رہا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کے مطابق یہ طرزِ عمل جمہوری اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔ حکومت کا استدلال اس کے برعکس ہے۔ حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنا اسپیکر کی آئینی ذمہ داری ہے، اور اگر بعض ارکان قواعد کی خلاف ورزی کریں تو کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن سیاسی فائدے کے لیے ادارہ جاتی بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اصل ترجیح ملک کی معیشت اور مرکزی بجٹ 2026–27 پر بامعنی بحث ہونی چاہیے۔
حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ میں شامل معاشی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور مالی حکمتِ عملی پر سنجیدہ گفتگو وقت کی ضرورت ہے، اور ایوان کی رکاوٹیں قومی مفاد کے خلاف ہیں۔
اسی کشیدگی کے بیچ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اپوزیشن قائدین سے ملاقات کر کے تعطل ختم کرنے کی کوشش کی۔ اس نشست میں کانگریس، سماجوادی پارٹی، ترنمول کانگریس اور دیگر جماعتوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ اپوزیشن نے واضح کیا کہ وہ علامتی یقین دہانیوں پر مطمئن نہیں ہوگی بلکہ عملی اقدامات چاہتی ہے۔
ان کے مطالبات میں راہل گاندھی کو ایوان میں مکمل موقع فراہم کرنا، معطل ارکان کی بحالی، اور خواتین ارکان کے خلاف مبینہ قابلِ اعتراض بیانات کی واپسی شامل ہے۔ یہ نکات اس بات کی علامت ہیں کہ مسئلہ صرف ایک شخصیت یا ایک دن کی کارروائی کا نہیں بلکہ پورے پارلیمانی ماحول کا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس پیش رفت کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔ اگر عدمِ اعتماد کی تحریک آگے بڑھتی ہے تو ایوان میں بحث کا نیا باب کھلے گا، جس میں نہ صرف اسپیکر کے کردار بلکہ مجموعی پارلیمانی کلچر پر بھی سوالات اٹھیں گے۔ دوسری طرف اگر حکومت اپنی عددی اکثریت کے بل پر اس تحریک کو ناکام بنا دیتی ہے تو بھی اپوزیشن کی شکایات ختم نہیں ہوں گی، بلکہ ممکن ہے کہ وہ ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کا دائرہ وسیع کرے۔
یہ صورتحال اس وسیع تر رجحان کی عکاس ہے جس میں ہندوستانی سیاست تیزی سے دو واضح خیموں میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت اپنی پالیسیوں اور اکثریت کے اعتماد کو بنیاد بنا کر فیصلے کرنا چاہتی ہے، جبکہ اپوزیشن اس بات پر زور دے رہی ہے کہ جمہوریت محض اکثریت کا نام نہیں بلکہ شفافیت، مکالمے اور اختلاف کے احترام کا بھی تقاضا کرتی ہے۔
اگر پارلیمنٹ میں مخالف آوازوں کو برابر کا موقع نہ ملے تو عوام کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کمزور پڑ جاتی ہے۔ مرکزی بجٹ پر بحث اپنی جگہ اہم ہے، کیونکہ یہی دستاویز آنے والے مالی سال کی سمت طے کرتی ہے، لیکن بجٹ کی معنویت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب اسے ایک ایسے ایوان میں پیش کیا جائے جہاں اعتماد اور باہمی احترام کا ماحول ہو۔
اگر ایوان مسلسل شور، معطلیوں اور احتجاج کی زد میں رہے تو سنجیدہ معاشی مباحث بھی سیاسی نعروں میں دب کر رہ جاتے ہیں۔ اسپیکر کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک نے دراصل اس بنیادی سوال کو نمایاں کر دیا ہے کہ کیا ہمارے پارلیمانی ادارے سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر اپنی غیر جانب دار حیثیت برقرار رکھ پا رہے ہیں؟
جمہوریت کی مضبوطی کا دار و مدار اسی پر ہے کہ آئینی مناصب پر فائز افراد اپنے کردار کو جماعتی وابستگی سے اوپر رکھیں اور تمام فریقوں کے لیے یکساں رویہ اختیار کریں۔ اسی طرح اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ احتجاج کو ایسے دائرے میں رکھے جو ایوان کی حرمت کو مجروح نہ کرے۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ بحران وقتی ہے یا ایک طویل سیاسی کشمکش کا آغاز۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کی کوئی راہ نکلتی ہے تو پارلیمنٹ اپنی معمول کی رفتار بحال کر سکتی ہے، لیکن اگر ضد اور محاذ آرائی جاری رہی تو نہ صرف قانون سازی متاثر ہوگی بلکہ عوام کے ذہن میں پارلیمانی نظام کی ساکھ بھی سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔
اس صورتحال میں اصل ضرورت سیاسی تدبر، برداشت اور مکالمے کی ہے۔ جمہوریت کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ اختلاف کے باوجود نظام چلتا رہے اور ادارے اپنی وقعت برقرار رکھیں۔
لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک نے ملک کی سیاست کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اب یہ قیادتوں پر منحصر ہے کہ وہ اسے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بناتی ہیں یا جمہوری بلوغت کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔
دورِ حاضر میں جب سیاسی بیانیے تیزی سے بدلتے ہیں اور سوشل میڈیا رائے عامہ کو لمحوں میں تقسیم کر دیتا ہے، ایسے میں پارلیمنٹ کا وقار اور غیر جانب داری پہلے سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ اگر ایوانِ زیریں کی کرسی پر اعتماد متزلزل ہو تو اس کی گونج پورے ملک میں جمہوری اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔
یہ وقت سیاسی قیادتوں کے لیے سنجیدہ غور و فکر کا ہے۔ جمہوریت کی بقا اسی میں ہے کہ ادارے اپنی غیر جانب دار ساکھ برقرار رکھیں اور اختلاف کو مہذب مکالمے میں بدلا جائے۔
لوک سبھا میں اٹھنے والی یہ بازگشت اس سوال کی طرف اشارہ ہے کہ کیا ہم سیاسی بلوغت کی طرف بڑھ رہے ہیں یا محاذ آرائی کے ایک طویل دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ آنے والے دن ہی اس کا فیصلہ کریں گے۔
