ہندوستان کی جمہوریت اس وقت ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر آئینی ادارے کے کردار، نیت اور عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انتخابی سیاست اب محض عوامی خدمت یا نظریاتی کشمکش تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے جس میں اقتدار کے حصول کے لیے آئینی ضابطوں کی تشریح بھی طاقت کے توازن کے مطابق کی جا رہی ہے۔
اسی پس منظر میں جب کوئی منتخب عوامی نمائندہ براہِ راست عدلیہ کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو یہ ایک قانونی معاملہ نہیں رہتا بلکہ جمہوری روح کے مستقبل کا سوال بن جاتا ہے۔ گزشتہ 4 فروری کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کی پیشی نے ملک بھر کی سیاسی فضا میں ایک نئی سنجیدگی پیدا کر دی۔
معاملہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرِ ثانی سے متعلق تھا، لیکن اس کیس کی نوعیت صرف انتخابی فہرستوں کی جانچ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سوال اب اس بات پر آ ٹھہرا ہے کہ آیا جمہوریت کے بنیادی ستون، یعنی ووٹ کے حق کو واقعی محفوظ رکھا جا رہا ہے یا اسے خاموشی سے کمزور کیا جا رہا ہے؟
اس پورے معاملے میں سب سے غیر معمولی اور تاریخی پہلو یہ تھا کہ ممتا بنرجی نے خود سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر اپنے دلائل پیش کیے۔ سپریم کورٹ کی تاریخ میں کسی برسرِ اقتدار وزیرِ اعلیٰ کا اس طرح ذاتی طور پر مقدمہ لڑنا شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ معاملہ ان کے نزدیک سیاسی نہیں بلکہ وجودی نوعیت کا ہے، جہاں ریاست کے عوام کے جمہوری حقوق داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔
عدالت کے روبرو ممتا بنرجی نے یہ سوال اٹھایا کہ آخر کیوں ووٹر لسٹ کی یہ خصوصی نظرِ ثانی صرف مغربی بنگال میں اس شدت کے ساتھ کی جا رہی ہے، جبکہ دیگر ریاستوں میں اسی نوعیت کی کارروائی نظر نہیں آتی۔ ان کا موقف تھا کہ اس عمل کا اصل مقصد نئے ووٹروں کو شامل کرنا نہیں بلکہ پہلے سے موجود ووٹروں کو فہرست سے خارج کرنا ہے، اور یہ ایک ایسی خاموش کارروائی ہے جو جمہوریت کی جڑوں کو کمزور کر سکتی ہے۔ ان کے الفاظ میں یہ صرف انتظامی مشق نہیں بلکہ ایک سیاسی منصوبہ ہے۔
ممتا بنرجی کی اپیل قانونی زبان تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں ایک گہرا اخلاقی اور جمہوری درد جھلکتا تھا۔ جب انہوں نے عدالت سے کہا کہ ’’جمہوریت کو بچائیں‘‘ اور یہ جملہ ادا کیا کہ ’’انصاف بند دروازوں کے پیچھے رو رہا ہے‘‘ تو یہ صرف ایک ریاست کی وزیرِ اعلیٰ کی آواز نہیں تھی بلکہ وہ کروڑوں ووٹروں کی نمائندگی کر رہی تھیں جو اپنے حقِ رائے دہی کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہیں۔
ان کے یہ الفاظ دراصل موجودہ ہندوستانی سیاست کے اس المیے کی عکاسی کرتے ہیں جہاں عوام کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں اور اثرات کہیں اور پڑ رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کیا اور ان سے جواب طلب کیا۔ اگرچہ عدالت نے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا، لیکن نوٹس جاری ہونا بذاتِ خود ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عدلیہ اس معاملے کو رسمی کارروائی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگلی سماعت 9 فروری کو ہوگی اور وہ عملی حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گی، نیز ضرورت پڑنے پر مزید وقت دینے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ کیس اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ آنے والے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بالکل قریب سامنے آیا ہے۔ ایسے وقت میں ووٹر لسٹ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا نظرِ ثانی کے اثرات براہِ راست انتخابی نتائج پر پڑ سکتے ہیں۔
اسی لیے اپوزیشن حلقوں میں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے، جبکہ حکمراں طبقہ اسے محض ایک انتظامی ضرورت قرار دینے پر مصر ہے۔
اگر عدالت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرِ ثانی کا عمل شفافیت اور مساوات کے اصولوں کے مطابق نہیں ہو رہا تو اس کے اثرات صرف مغربی بنگال تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ملک میں انتخابی عمل کے طریقۂ کار پر نظرِ ثانی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، اور اگر یہ خدشات نظر انداز کر دیے گئے تو جمہوریت کے سب سے بنیادی حق، یعنی ووٹ کی معنویت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس کیس کا انجام کیا ہوگا، لیکن اتنا طے ہے کہ ممتا بنرجی کی سپریم کورٹ میں پیشی نے ایک بار پھر یہ بحث زندہ کر دی ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اس اعتماد کا نام ہے جو عوام کو اپنے اداروں پر ہوتا ہے۔
ووٹ کا حق محض ایک آئینی شق نہیں بلکہ وہ روح ہے جس پر پورا جمہوری نظام کھڑا ہے، اور اگر اسی حق کے تحفظ پر سوال اٹھنے لگیں تو یہ ایک سنجیدہ وارننگ سمجھی جانی چاہیے۔
عدالتِ عظمیٰ کے سامنے اب ایک نہایت نازک ذمہ داری آن کھڑی ہوئی ہے۔ اسے نہ صرف قانونی موشگافیوں کو سلجھانا ہے بلکہ اس اعتماد کو بھی بحال کرنا ہے جو عوام کے دلوں میں آئینی اداروں کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
اگر یہ یقین کمزور پڑ جائے تو انتخابات ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی طرف یہ پورا مقدمہ اشارہ کرتا ہے اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں ہندوستان کی جمہوری سمت کا تعین کرے گا۔
کریم گنج، پورن پور، پیلی بھیت، مغربی اترپردیش