اصلاح معاشرہمدارس و مکاتب

تعلیم گاہ یا بے حیائی کی آماجگاہ؟

✍️ طارق محمود رضوی

اصل مسئلے کی طرف آنے سے قبل فتاویٰ فیض الرسول کے ایک نہایت اہم فتویٰ کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں، جو ہمارے لیے جس طرح کل ایک بہترین اصول تھا، اسی طرح آج بھی ہے۔

سیدی حضور فقیہ ملت سے سوال کیا گیا کہ:

ایک عالمِ دین، جو دینی درسگاہ کا صدر مدرس ہے، دینی اجلاس میں لڑکوں کے علاوہ نابالغہ لڑکیوں سے نعت خوانی کرواتا ہے، اور مقصد نعت وغیرہ سکھا کر گانوں سے بچانا بتاتا ہے، ایسا کرنا کیسا ہے؟

اس کے جواب میں سیدی حضور فقیہِ ملت نے ارشاد فرمایا:

نابالغہ بچیوں کو حمد و نعت اور منقبت خوانی سے لذت آشنا کر کے فلمی گانوں سے بچانے کی کوشش گھر کی چہار دیواری کے اندر کی جائے گی، نہ کہ عام اسٹیجوں پر۔

اور نحن جوار الخ کو پیش کرنا صحیح نہیں، اس لیے کہ وہ خیرالقرون تھا اور یہ زمانہ پر فتن ہے۔ یہاں تک کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری زندگی میں عورتیں مسجد میں نماز کے لیے آتی تھیں، پھر تھوڑے ہی دنوں کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کا مسجد میں آنا پسند نہیں فرمایا۔

لہٰذا اس زمانے میں جب کہ عورتوں کی بے حیائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، نابالغہ بچیوں کو جری بنانے کے لیے عام مردوں کے سامنے اسٹیج پر آنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

(مکمل فتویٰ فتاویٰ فیض الرسول میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے)

فتوے کے دو بنیادی اصول

نابالغہ بچیوں کو حمد و نعت اور منقبت خوانی سے لذت آشنا کر کے فلمی گانوں سے بچانے کی کوشش گھر کی چہار دیواری کے اندر کی جائے گی، نہ کہ عام اسٹیجوں پر۔

نابالغہ بچیوں کو جری بنانے کے لیے عام مردوں کے سامنے اسٹیج پر آنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

یہ فتویٰ آج سے تقریباً چوالیس برس قبل دیا گیا تھا — اس زمانے میں جس کے متعلق آج کے لوگ کہتے ہیں کہ:

  • نہ ماحول اتنا خراب تھا
  • نہ بے حیائی اتنی عام
  • نہ موبائل تھے
  • نہ انٹرنیٹ کی یلغار

اور آج کی بے حیائی کسی سے پوشیدہ نہیں۔

کہیں:

  • نوجوان بچیوں کو اسٹیج پر لایا جا رہا ہے
  • خطابات کروائے جا رہے ہیں
  • کرتب دکھوائے جا رہے ہیں
  • مردانہ انداز اپنایا جا رہا ہے
  • اور ان سب کو جرأت کا نام دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔

🔷 چند سال قبل اسکولوں اور کالجوں میں لڑکیوں کو لڑکوں کے بالمقابل لا کھڑا کرنے کی ایک غلیظ سازش رچی گئی۔

پھر یہی سازش:

دینی مدارس

  • حفظ
  • عالمیت
  • افتا
  • خطابت

تک پہنچ گئی۔

🟣 سوشل میڈیا پر انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب اور اسنیپ چیٹ کھول کر دیکھ لیجیے — فتنوں کا سیلاب نظر آئے گا۔آن لائن اکیڈمیوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی جہاں:تعلیم سے زیادہ عشق بازیاں جاری ہیں۔

🔴 اگر یہی روش جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب دینی تعلیم گاہیں بھی عریانیت کے مناظر پیش کریں گی — بلکہ بعض جگہ ہو بھی رہا ہے۔

اور یاد رہے:

عریانیت صرف ننگا ہونے کا نام نہیں، شریعت کے مقرر کردہ پردے کو ترک کرنا بھی عریانیت ہے۔

حدیث پاک کے مطابق:

عطر لگا کر مجلس سے گزرنے والی عورت بھی زانیہ ہے،جس کی علت مردوں کی شہوت کو ابھارنا بیان کی گئی ہے۔جہاں جہاں یہ علت پائی جائے گی وہاں وہی حکم نافذ ہوگا —

خواہ:

  • خطابت ہو
  • کتابت ہو
  • سوشل میڈیا ہو
  • یا کوئی اور میدان

اس فتنے کا واحد علاج

وہی جو سیدی حضور فقیہ ملت نے واضح فرمایا:

عالمہ، حافظہ اور مبلغہ بنانی ہے تو چہار دیواری میں بنائیے —نہ کہ موبائل کی دلدل میں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔آمین ثم آمین یا رب العالمین

وہ اندھیرا ہی بھلا تھا جو قدم راہ پہ تھے

روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں

📅 ٢٧ شعبان المعظم ١٤٤٧ھ

📆 مطابق: ٢٠ جنوری ٢٠٢٦ء

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button